Urdu Poets

Latif Sahil Poetry Ghazal

میں سال کا آخری سورج ہوں
میں سب کے سامنے ڈوب چلا
کوئی کہتا ہے میں چل نہ سکا
کوئی کہتا ہے کیا خُوب چلا
میں سب کے سامنے ڈوب چلا
… اس رخصتِ عالم میں مجھ کو
اک لمحہ رخصت مل نہ سکی
جس شب کو ڈھونڈنے نکلا تھا
اس شب کی چاہت مل نہ سکی
یہ سال کہاں، اک سال کا تھا
یہ سال تو اک جنجال کا تھا
یہ زیست جو اک اک پَل کی ہے
یہ اک اک پَل سے بنتی ہے
سب اک اک پَل میں جیتے ہیں
اور اک اک پَل میں مرتے ہیں
یہ پَل ہے میرے مرنے کا
میں سب کے سامنے ڈوب چلا

اے شام مجھے تُو رخصت کر
تُو اپنی حد میں رہ لیکن
دروازے تک تو چھوڑ مجھے
وہ صبح جو کل کو آئے گی
اک نئی حقیقت لائے گی
تُو اُس کے لئے، وہ تیرے لئے
اے شا،م! تُو اتنا جانتی ہے
اک صبحِ امید ، آثار میں ہے
اک در تیری دیوار میں ہے
اک صبحِ قیامت آنے تک

بس میرے لیے بس میرے لیے
یہ وقت ہی وقتِ قیامت ہے
اب آگے لمبی رخصت ہے
اے شام جو شمعیں جلاؤ تم
اک وعدہ کرو ان شمعوں سے
جو سورج کل کو آئے یہاں
وہ آپ نہ پَل پَل جیتا ہو
وہ آپ نہ پَل پَل مرتا ہو
وہ پُورے سال کا سورج ہو
اے شام مجھے تو رخصت کر!

کلام: لطیف ساحل
Lateef Sahil Poetry
میں سال کا آخری سورج ہوں
میں سب کے سامنے ڈوب چلا
کوئی کہتا ہے میں چل نہ سکا
کوئی کہتا ہے کیا خُوب چلا
میں سب کے سامنے ڈوب چلا
… اس رخصتِ عالم میں مجھ کو
اک لمحہ رخصت مل نہ سکی
جس شب کو ڈھونڈنے نکلا تھا
اس شب کی چاہت مل نہ سکی
یہ سال کہاں، اک سال کا تھا
یہ سال تو اک جنجال کا تھا
یہ زیست جو اک اک پَل کی ہے
یہ اک اک پَل سے بنتی ہے
سب اک اک پَل میں جیتے ہیں
اور اک اک پَل میں مرتے ہیں
یہ پَل ہے میرے مرنے کا
میں سب کے سامنے ڈوب چلا

اے شام مجھے تُو رخصت کر
تُو اپنی حد میں رہ لیکن
دروازے تک تو چھوڑ مجھے
وہ صبح جو کل کو آئے گی
اک نئی حقیقت لائے گی
تُو اُس کے لئے، وہ تیرے لئے
اے شا،م! تُو اتنا جانتی ہے
اک صبحِ امید ، آثار میں ہے
اک در تیری دیوار میں ہے
اک صبحِ قیامت آنے تک

بس میرے لیے بس میرے لیے
یہ وقت ہی وقتِ قیامت ہے
اب آگے لمبی رخصت ہے
اے شام جو شمعیں جلاؤ تم
اک وعدہ کرو ان شمعوں سے
جو سورج کل کو آئے یہاں
وہ آپ نہ پَل پَل جیتا ہو
وہ آپ نہ پَل پَل مرتا ہو
وہ پُورے سال کا سورج ہو
اے شام مجھے تو رخصت کر!

کلام: لطیف ساحل

Latif Sahil Ghazal

6 Comments

  • لطیف ساحل صاحب: میں آپ کی شاعری کا ایک ’خاصا‘ پرانا مداح ہوں۔ اپنے شعری سفر کے بالکل دنوں ہی سے، جب میں والدِ گرامی حضرت یزدانی جالندھری کے ساتھ لاہور کے مشاعروں میں شریک ہوتا تھا، مجھے آپ کا لب و لہجہ بھا گیا۔ آپ کے بعد افقِ ادب پر طلوع ہونے والےمتعدد ستارے آپ کی فکر و اظہار سے کسبِ نور کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ آپ کی باقی شاعری کی طرح زیرِ نظر انتخاب ’میں سال کا آخری سورج ہوں‘ بھی خوب ہے۔
    اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آمین
    حامد یزدانی
    کینیڈا

  • میں لطیف ساحل صاحب کی شاعری کا ایک ’خاصا‘ پرانا مداح ہوں۔ اپنے شعری سفر کے بالکل دنوں ہی سے، جب میں والدِ گرامی حضرت یزدانی جالندھری کے ساتھ لاہور کے مشاعروں میں شریک ہوتا تھا، مجھےان کا لب و لہجہ بھا گیا۔ ان کے بعد افقِ ادب پر طلوع ہونے والےمتعدد ستارے ان کی فکر و اظہار سے کسبِ نور کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ساحل صاحب کی باقی شاعری کی طرح زیرِ نظر انتخاب: ’میں سال کا آخری سورج ہوں‘ بھی خوب ہے۔
    اللہ آپ کو سلامت رکھے۔ آمین
    حامد یزدانی
    کینیڈا

Leave a Comment